Politics

سماجی تبدیلی کے لئے تمام ترقی پسند، انسان دوست قوتوں کااتحاد وقت کی ضرورت

Condolence reference

یوسف مستی خان سیاست دانوں کی اس نایاب نسل کی نمائندگی کرتے ہیں جو اپنی آخری سانس تک مظلوم قوموں، خواتین، مذہبی طور پر ستائے ہوئے طبقوں اور محنت کش عوام کے ساتھ کھڑے رہنے اور اقتدار کے سامنے سچ بولنے کے عزم پر قائم رہے۔ وہ ایک ایسے دور میں حقیقی طور پر ترقی پسند سیاست کا مظہر تھے جہاں فوجی اسٹیبلشمنٹ سے تعلقات اور منافع خوری، مرکزی دھارے کے سیاست دانوں کے بنیادی اہداف کی نمائندگی کرتے ہیں اور آج کے نوجوانوں کو یوسف مستی خان کے راستے کو اپنانا چاہیے.

عوامی ورکرز پارٹی نشتر ہسپتال کے چھت پر لاشوںکو پھینکنے کے عمل کی مذمت کرتی ہے

نشتر ہسپتال کے چھت پر لاش

عوامی ورکرز پارٹی کے قائم مقام صدر اختر حسین ایڈووکیٹ اور جنرل سیکریٹری ڈاکٹر بخشل تھلہو نے ایک بیان میں کہا کہ ہسپتال کی چھت پر لاشیں پھینکنا نہ صرف ایک غیر انسانی فعل ہے بلکہ یہ پاکستانی معاشرے کی مجموعی سماجی بے حسی اور اخلاقی گراوٹ کی بھی نشاندہی کرتا ہے۔ یہ فعل عوام اور صحت عامہ کےجانب ریاست اور حکمران طبقہ کی بے حسی کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ ایسی ریاست میں لوگوں کی کیا اہمیت ہو گی جہاں تین کروڑ سے زائد بے گھر افراد جن میں خواتین، بچے اور بوڑھے بھی شامل ہیں، انسانوں کی پیدا کردہ آفت اور تباہی اور حکمران اشرافیہ کی مجرمانہ غفلت اور بے حسی کا سامنا کر رہے ہیں۔ وہ دو ماہ سے سڑے ہوئے پانی اور مچھروں میں گھرے کھلے آسمان تلے بھوک پیاس اور بیماری کے شکار رہ رہے ہیں اور حکمران محلاتی سازشوں اور طاقت کے کھیل میں مصروف ہیں۔

AWP dismayed at the throwing of bodies on Nishtar Hospital rooftop

Rotting Dead Bodies

AWP’s Acting President Akhtar Hussain Advocate and General Secretary Dr Bakhshal Thalhu said in a statement that throwing bodies on the rooftop of the hospital is not only an inhumane act but also indicates overall social indifference and moral decline of the Pakistani society. This act also exposes the apathy of the state towards the people and public health; in a state where living human beings do not matter; more than 30 million displaced people, including women, children and the elderly, are victims of the man-made calamity, destruction and the criminal negligence and indifference of the ruling elite

یوسف مستی خان مزاحمت، جرآت اور استقامت کا استعارہ ہے

انہوں نے ے ساری زندگی محکوم قوموں  کے حقوق کی جدوجہد میں گزار دی؛ ان کی جدوجہد کا راستہ ہی ہمارا راستہ ی ہے، عوامی ورکرز پارٹی گلگت بلتستان کے زیر اہتمام پارٹی صدر یوسف مستی خان کی یاد میں ہنزہ میں تعزیتی ریفرنس سے  مقررین  کا خطاب رپورٹ:  شیرنادرشاہی ہنزہ :  یوسف مستی خان…

انقلاب زندہ باد

خراج عقیدت

تحرہر: حفیظ بلوچ یہ 2002ء کی بات ہے جب پہلی دفعہ لالہ یوسف مستی خان کو اپنے آنکھوں کے سامنے دیکھا ان کی باتیں سنیں۔ یہ نہیں تھا کہ ہم ان کے بارے میں نہیں جانتے تھے یا ان کی سیاست کے بارے میں نہیں پتہ تھاـ مگر اسے اپنے گاؤں میں اپنے سامنے پہلی…

A lifetime of struggle

A lifetime struggle

by Mushtaq Rajpar A PROMINENT voice of progressive left politics in Pakistan, Yousuf Mustikhan passed away this week at the age of 78. Head of the Awami Workers Party, he had been fighting cancer for the past few years, but that did not stop him from continuing to fight for justice for oppressed people and…

الوداع کامریڈ یوسف مستی خان

تدفین

یوسف مستی خان بلوچ قوم پرستی اور بائیں بازو کے ترقی پسند نظریات کا مکسم تصویر تھے۔ انھوں نے اپنی ساری زندگی ان اصولوں کو مجسم بنانے میں گزار دی جن کے لیے وہ کھڑے تھے۔ ترقی پسندی کے فروغ میں، ان کی آخری شراکت ان کے جدوجہد کے پختہ عزم کی ایک پُرجوش یاد دہانی تھی جب جون 2022 میں انہوں نے یونائیٹڈ ڈیموکریٹک فرنٹ کے قیام کی صدارت کی، جو ایک وسیع البنیاد ترقی پسند اتحاد ہے جس کے بارے میں ان کا خیال تھا کہ فوجی اسٹیبلشمنٹ، روایتی بورژوا جماعتوں، مذہبی دایاں بازو اور موجودہ دور کے بڑھتے ہوئے عمران خان جیسے رجعت پسندوں کا مقابلہ کرنا وقت کی ضرورت ہے

Adieu Comrade Yousuf Mustikhan

A lifetime struggle

Yousuf Mustikhan was an icon of Baloch nationalism and left-progressive ideals. He spent all of his life embodying the principles for which he stood. His final contribution to the progressive cause was a poignant reminder of his commitments; in June 2022 he presided over the formation of the United Democratic Front (UDF), a broad-based progressive alliance that he believed was the need of the time to counter the growing influence of the military establishment, traditional bourgeois parties, religious right and new age reactionaries like Imran Khan

نہیں دریا کو انصاف

Monsoon floods' devastation

تحریر: ڈاکٹر بخشل تھلہو “ماحولیاتی تبدیلی نے ہمارے اور انسانی جڑت کے سامنے ایک سوال پیدا کر دیا ہے اور وہ تبدیلی جس کائناتیت کی طرف اشارہ کرتی ہے ۔۔۔وہ کسی تباہ کاری (سیلاب اور خشک سالی) کے مشترکہ احساس سے بھی زیادہ کائناتی ہے”دپیش چکرابارتی (1) یورپ اس وقت جس خشک سالی کا تجربی…